بی ایس (اسلامک لرننگ)

:دورانیہ
۴ سال

مطالعہ ادیان

تعارف

مذہبی اعتقادات کی بنیاد نہ ہوتو انسانی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہتا اور مذہب نہ ہوتو زندگی گویا ایسی کشتی ہے جس کا کوئی بادبان نہ ہو۔

شعبہ اسلامیات وہ ابتدائی شعبہ ہے جوجناح یونیورسٹی میں سب سے پہلے قائم ہوا۔1986میں جب جناح کالج برائے خواتین کو پہلی مرتبہ پوسٹ گریجوایٹ کلاج بنایا گیا تو اس وقت شعبہ اسلامیات بھی اچار ابتدائی شعبوں میں شامل تھا جو پوسٹ گریجوایشن کی تعلیم دے رہے تھا۔ باقی ماندہ شعبوں میں اردو، زوآلوجی اور تدریس شامل ہیں۔جب اس ادارے کو یونیورسٹی کا چارٹر ملا تو شعبہ آرٹس کی جو پہلی ڈین بنیں وہ شعبہ اسلامیات کی پروفیسر فریدہ سلطانہ ہی تھیں۔

ان دنوں ثریا قمر اس کاروان کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس شعبے کے کے تمام اساتذہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کیلیے انرول ہیں جبکہ پروفیسر جمیلہ خانم او بشریٰ توصیف نے اپنا تحقیقی کام مکمل کر لیا ہے۔

وژن

جناح یونیورسٹی برائے خواتین سے پاس آؤٹ ہونے والی طالبات اپنی انفرادی اور عملی زندگیوں میں اسلام کے ضابطہ حیات کی تعبیر بنی نظر آتی ہیں۔ ملکی وحدت کے مقصد اور اسلامی نظریئے کے مطابق وہ جہالت اور فرقہ واریت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔

اس شعبے میں تعلیم سے زندگی کے بارت مین ا ن کا تناظر وسیع ہوتا ہے اور ان کی دانش کو بصیرت ملتی ہے۔

حضور اکرمﷺپر پہلی وحی کے دوران ہی واضح طور پر یہ کہہ دیا گا تھا”انسانی زندگی کا مقصد اپنے خالق کو پہچاننا اور تلاش کرنا ہے اور زندگی کا مقصد علوم کو ملانا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔

زندگی کی اس معراج کے حصول کے لیے تعلیمی ادارے بہترین ذریعہ ہیں کیونکہ یہاں قرآن اور سنت کی تفہیم حاصل ہوتی ہے۔

اس امر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ مادے کاعلم ہمیں صرف اقوام کے مابین بڑ ی حیثیت دلاتا ہے جبکہ اسلامی علم نہ صرف ہمیں اس دنیا میں رفعت دلاتا ہے بلکہ عاقبت بھی سنورتی ہے۔

مندرجہ بالا نکات کو مد نظررکھتے ہوئے جناح یونیورسٹی برائے خواتین نے اپنے آغاز سے ہی موضوعات کے انتخا ب اور اسلامک اسٹڈیز کے نصاب کی تیاری پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات کو مختلف تعلیمی اداروں میں آسانی سے روزگارمل جاتا ہے۔

مشن اسٹیٹمنٹ

طالبات کو وسیع تر اور گہرا علم دینے کیلیے القرآن، الحدیث،الفقہ،سیرت النبی ﷺ، اسلامی تاریخ، اسلامی کلچر اینڈ سویلائزیشن جیسے علوم کو شامل ہیں۔

ان میں اسلامک ٹیچنگ کی تفہیم کیلیے انہیں ان چیلنجوں کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں جو مسلم امہ کو معاصر دنیا میں درپیش ہیں۔ انہیں اسکالر بننے کیلیے جس تربیت کی ضرورت ہے وہ فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔

تازہ ترین خبریں