vice-chancellor

جناح یونیورسٹی رائے خواتین کا قیام 1998میں عمل میں آیا، قبل ازیں یہ ادارہ 1986سے پوسٹ گریجوایٹ کالج کے طور پر کام کر رہاتھا۔جب یہ یونیورسٹی وجود میں آئی تو یہ شہر میں عمومی علوم کی دوسری جبکہ خواتین کی پہلی جامعہ تھی۔نہ صرف سندھ میں بلکہ پورے ملک میں خواتین کی پہلی نجی یونیورسٹی کا اعزاز بھی اسے حاصل تھا۔

بدستور فروغ پاتی اس ٹیکنالوجی کے دور میں جس نے اس دنیا کو ایک قریہ عالم بنا کر رکھ دیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے خیالات کو معیاری تعلیم اور انسانی اقدار سے پیوست و مربوط رکھیں۔ یہ وہ چیز ہے جو رقم یا اثر ورسوخ سے ہونے سے تو رہی،اس کیلیے حقیقی علم اور فہم و ادارک کی ضرورت ہے۔عالمگیر سطح پر یہ حقیقت معروف اور تسلیم شدہ ہے کہ خواتین نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی حکومتوں، اپنے اپنے ممالک اور اس کرہ عالم کی بہتری کے لیے کردار ادا کر سکتی ہیں چنانچہ لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع ملنے چاہئیں اور انہیں بھی وہی نصاب پڑھنے کو ملنا چاہئے جو دیگر طلبہ کو ملتا ہے۔مردو خواتین کی برابری اور تعلیم میں برابری کے مواقع کو پہچانے بغیر دنیا سے جنگ و جدل کی بنیادوں کو مکمل طو ر پر ختم نہیں کیاجاسکتا۔ایسے اذہان پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ٹیلنٹ اور مہارت سے لیس ہوں تاکہ پرامن دنیا کے تقاضوں کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کر سکیں۔

یونیورسٹی کے تعلیمی شجرے میں 4فیکلٹیز ہیں جن کے 26شعبے بیچلر اور ماسٹرپروگرام چلارہے ہیں۔ تمام رکاوٹوں سے گزر کر یہ فیکلٹیز؛ فیکلٹی آف سائنس، فیکلٹی آف آرٹس، فیکلٹی آف فارمیسی اور فیکلٹی آف بزس ایڈمنسٹریشن اینڈ کامرس اینڈ اکنامکس ہیں۔ ان میں سے3فیکلٹیز 4سالہ بی ایس اور 2سالہ ماسٹر پروگرام گراتی ہیں جبکہ فارماڈی کی ڈگری پانچ سالہ کورس پر مشتمل ہے۔ چاروں فیکلٹیزکے مختلف شعبوں میں باضابطہ طور پر ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرام چل رہے ہیں۔ تعلیمی پروگرام میں قومی اور بین الاقوامی سیمینار، ورکشاپس اور لیکچرز شامل ہوتے ہیں جو معروف اسکالر اور پروفیشنل دیتے ہیں۔

یونیورسٹی کی عطا کر دہ اسناد، ڈپلومے اور ڈگریاں ہائی ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے تسلیم شدہ ہوتی ہیں اور پاکستان کی دیگر یونیورسٹی کی جاری کردہ اسناد، ڈپلوموں اور ڈگریوں کے مساوی ہیں۔

میں نئی داخل ہونے والی طالبات کی کامیابی کیلیے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ یونیورسٹی میں اپنا عرصہ قیام بہترین طریقے سے استعمال کریں گی اس کی ان سہولیات سے استفاد ہ کریں گی جو اس عزم کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں کہ ”یہاں سیکھنے کو آیئے اور یہاں سے نکل کر خدمت خلق کو جایئے“

پروفیسر ڈاکٹر نعیم فاروقی
وائس چانسلر